ابنا: چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے رینٹل پاور کیس کی سماعت کی، وزارت پانی و بجلی کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے ایشیائی بینک کی رپورٹ سے اقتباس پیش کئے تو چیف جسٹس نے اُن سے کہاکہ آپ مفروضے پر نہیں حقائق پر مبنی بات کریں، چیف جسٹس نے اُن سے کہاکہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بجلی نرخ کہاں جارہے ہیں، عدالت کے پوچھنے پر خواجہ طارق رحیم نے بتایاکہ ملک میں 27 آئی پی پیز 6870 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انہوں نے کہاکہ ذاتی مقاصد کے لئے بجلی کمی کا بہانہ نہیں بنایاگیا، بجلی کی کمی تھی تو ہی رینٹل پاور کی پالیسی لائی گئی ، اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ جہاں سے بھی بجلی لائیں لیکن معاہدے شفاف ہونے چاہئیں،ایشیائی بینک کی رپورٹ تو آپ کے خلاف چارج شیٹ ہے، وکیل نے کہاکہ ایشیائی بینک کی رپورٹ میں بعض غلطیوں کی نشاندہی کرکے تحفظات سے بینک کو آگاہ کیا تھا، لیکن پھر بینک نے کوئی جواب نہیں دیا، بعد میں مقدمہ کی سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔ ...........
/169